ابنا: لاہور میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2009میں رات ساڑھے 11بجے امریکیوں کا فون آیا تھا نوازشریف کو گرفتار کیوں کیا گیا، انہیں رہاکریں تاکہ وہ لانگ مارچ کی قیادت کریں،امریکیوں کو بتایا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے لیکن فوری رہائی کے حکم پر انہیں رہا کردیا گیا۔،رحمان ملک کاکہنا تھا کہ رائے ونڈ کے پاس ایک پٹیشن مافیا ہے جس کاکام صرف پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کیخلاف پٹیشنز داخل کرنا ہوتا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی مدعیت میں کیسوں کی مہینوں تاریخیں ہی نہیں ملتیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات پرو طالبان اور اینٹی طالبان پارٹیوں کے درمیان ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین پارٹیوں کی کارنرمیٹنگز میں خودکش دھماکے ہوتے ہیں جبکہ نوازشریف اور عمران خان کی جماعتیں ہرطرف آزادانہ جلسے کرتے پھرتی ہیں۔ادہر نواز شریف کا کہنا ہے کہ ملک کا کوئی ایسا حصہ نہیں جو دہشت گردی سے محفوظ ہو۔ بلوچستان میں ان کی جماعت کے صوبائی صدر پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں ان کے بیٹے، بھائی اور دیگر افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ جب کہ گذشتہ روز حاجی لشکری رئیسانی پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ صرف یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نینشل پارٹی کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے صحیح نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
2 مئی 2013 - 19:30
News ID: 415415
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اورسابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا ہے کہ چار برس قبل لانگ مارچ کے لئے امریکی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو رہا کیا گیا تھا۔